بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 885 — طہر (پاکی) سے مراد کیا ہے؟
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل طہر (پاکی) سے مراد کیا ہے؟ حدیث 885
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، فَاطِمَةُ ، أَسْمَاءَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: "كُنَّا نَكُونُ فِي حِجْرِهَا فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ ثُمَّ تَطْهُرُ فَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، ثُمَّ تَنْكُسُهَا الصُّفْرَةُ الْيَسِيرَةُ، فَتَأْمُرُنَا أَنْ نَعْتَزِلَ الصَّلَاةَ حَتَّى لَا نَرَى إِلَّا الْبَيَاضَ خَالِصًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
فاطمہ (بنت المنذر) نے کہا: ہم سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی گود (و پرورش) میں تھے اور ہم میں سے کسی کو حیض آتا، پھر وہ پاک ہوتی تو غسل کرتی اور نماز پڑھتی تھی، پھر تھوڑی بہت زردی آتی تو وہ (سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا) ہم کو نماز چھوڑ دینے کا حکم دیتیں، تا آنکہ بالکل سفیدی ظاہر نہ ہو جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 885]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 889] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 94/1] و [البيهقي 336/1]
وضاحت
(تشریح احادیث 881 سے 885)
یعنی وہ صفرة اور کدرة کو بھی حیض ہی شمار کرتی تھیں۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (884) باب پر واپس اگلی حدیث (886) →