يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَسْتَيْقِظُ فَيَرَى بَلَلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ احْتِلَامًا، قَالَ: "لِيَغْتَسِلْ، فَإِنْ رَأَى احْتِلَامًا، وَلَمْ يَرَ بَلَلًا، فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو جاگنے پر تری دیکھے، خواب (احتلام) یاد نہ ہو، فرمایا: ”وہ غسل کر لے اور اگر خواب میں احتلام ہوتے دیکھے، لیکن تری نہ پائے تو اس پر غسل نہیں ہے۔“ (یعنی جب منی کا اثر دیکھے تبھی غسل واجب ہو گا، صرف خواب دیکھنے سے نہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 788]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 792] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداود 236] ، [ترمذي 113] ، [ابن ماجه 612] ، [دارقطني 133/1] ، [البيهقي 168/1]
الحكم: إسناده حسن