بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 787 — عورت کے احتلام کا بیان
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل عورت کے احتلام کا بیان حدیث 787
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمُّ سُلَيْمٍ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: الْمَرْأَةُ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَضَحْتِ النِّسَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مُنْتَصِرًا لِأُمِّ سُلَيْمٍ بَلْ أَنْتِ تَرِبَتْ يَدَاكِ، إِنَّ خَيْرَكُنَّ الَّتِي تَسْأَلُ عَمَّا يَعْنِيهَا، إِذَا رَأَتْ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ"، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَلِلنِّسَاءِ مَاءٌ؟، قَالَ:"نَعَمْ، فَأَنَّى يُشْبِهُهُنَّ الْوَلَدُ؟ إِنَّمَا هُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھی تھیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا داخل ہوئیں اور پوچھا: اگر عورت خواب میں وہ دیکھے جو مرد یکھتا ہے (یعنی احتلام ہوجائے) تو کیا کرے؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، تم نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی طرف داری کرتے ہوئے فرمایا: بلکہ (اے بیوی) تمہارے ہی ہاتھ خاک آلود ہوں، تم عورتوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی ضرورت کے مطابق مسئلہ پوچھے۔ پھر فرمایا: جب عورت تری (پانی) دیکھے تو غسل کرے گی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا عورتوں کا بھی پانی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، پھر بچہ ان کے مشابہ کیسے ہوتا ہے؟ وہ (یعنی عورتیں) مردوں کے مثل ہیں (طبیعت و عادات میں) یا عورتیں مردوں کا جوڑا ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 787]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف محمد بن كثير هو: الصنعاني وهو ضعيف. ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 791] »
یہ حدیث اس سند سے ضعیف ہے، لیکن متن و معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 310، 314] ، [أحمد 199/3] ، [مسند الموصلي 3495] ، [صحيح ابن حبان 1166]
الحكم: إسناده ضعيف محمد بن كثير هو: الصنعاني وهو ضعيف. ولكن الحديث صحيح
← پچھلی حدیث (786) باب پر واپس اگلی حدیث (788) →