بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 697 — پتھروں سے استنجاء کرنے کا بیان
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل پتھروں سے استنجاء کرنے کا بیان حدیث 697
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِلْوَلَدِ أُعَلِّمُكُمْ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَإِذَا اسْتَطَبْتَ، فَلَا تَسْتَطِبْ بِيَمِينِكَ"، وَكَانَ"يَأْمُرُنَا بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَيَنْهَى عَنْ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ"، قَالَ زَكَرِيَّا: يَعْنِي: الْعِظَامَ الْبَالِيَةَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لئے اسی طرح ہوں جیسے والد اولاد کے لئے ہوتا ہے، تم کو تعلیم دیتا ہوں، لہٰذا تم قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرو، اور جب تم استنجاء کرو تو داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرو، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم کو تین پتھر لینے کا حکم دیتے تھے، اور لید و ہڈی سے منع کرتے تھے۔ زکریا نے کہا: «الرمة» سے مراد پرانی ہڈیاں ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 697]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 701] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [مسلم 265 رواه مختصرًا] ، [أبوداؤد 8] ، [نسائي 40] ، [ابن ماجه 313] ، [صحيح ابن حبان 1431، 1440] ، [وفي الموارد 128، 129، 130] ، [الأم للشافعي 22/1] و [المعرفة للبيهقي 846]
وضاحت
(تشریح احادیث 692 سے 697)
اس حدیث شریف سے اور پچھلے ابواب کی احادیثِ مبارکہ سے استنجاء اور طہارت کے آداب معلوم ہوئے، اور وہ یہ کہ اگر پانی نہ ملے تو استنجاء تین ڈھیلے یا پتھروں سے کر لینا چاہئے، قضائے حاجت کے وقت قبلہ رو ہونا یا پیٹھ کر کے بیٹھنا منع ہے، اسی طرح ہڈی یا گوبر اور لید وغیرہ سے استنجاء، صفائی کرنا منع ہے، منادیل اور ٹشوز پیپر سے بھی صفائی کرنا جائز ہے۔
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (696) باب پر واپس اگلی حدیث (698) →