مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، لِكَعْبٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ لِكَعْبٍ: "مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ؟، قَالَ: الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ، قَالَ: فَمَا أَخْرَجَ الْعِلْمَ مِنْ قُلُوبِ الْعُلَمَاءِ؟، قَالَ: الطَّمَعُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اہل علم کون لوگ ہیں؟ کہا: جو علم کے مطابق عمل کرتے ہیں، فرمایا: اور علماء کے دل سے علم کو کس چیز نے خارج کر دیا؟ جواب دیا: (طمع) لالچ نے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 603]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 604] »
اس روایت کی سند سے دو راوی ساقط ہیں، لہٰذا یہ روایت معضل ہے، دیگر کسی محدث نے اسے روایت نہیں کیا، لیکن عبداللہ بن سلام سے صحیح سند کے ساتھ یہ روایت (594) پر گزر چکی ہے۔
الحكم: إسناده معضل