أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: "مَنْ تَرَأَّسَ سَرِيعًا، أَضَرَّ بِكَثِيرٍ مِنْ الْعِلْمِ، وَمَنْ لَمْ يَتَرَأَّسْ، طَلَبَ وَطَلَبَ حَتَّى يَبْلُغَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن ضریس نے بیان کیا، میں نے سفیان کو سنا، فرماتے تھے: جو جلدی رئیس ہو گیا وہ بہت سے علم سے محروم رہ گیا، اور جو رئیس نہ ہوا تو وہ علم کی طلب میں رہا یہاں تک کہ بلند مقام کو پہنچا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 573]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن حميد، [مكتبه الشامله نمبر: 573] »
اس روایت کی سند میں محمد بن حمید ضعیف ہے۔ دیکھئے: [شعب الايمان 1670] میں اس کے ہم معنی روایت موجود ہے، لیکن وہ بھی ضعیف ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 558 سے 573)
غالباً اس سے مراد یہ ہے کہ تھوڑا علم حاصل کر کے جو شخص مسندِ درس لگائے وہ بہت سا علم حاصل کرنے سے محروم ہو جائے گا، اس لیے پہلے خوب علم حاصل کرنا چاہیے اور پھر مسندِ درس پر بیٹھے۔
واللہ اعلم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن حميد