مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ ، عَوْفٍ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْعَالِيَةِ، أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مُفْتِيًا؟، فَقُلْتُ: "لَا، وَلَكِنْ لَا آمَنُ أَنْ تَذْهَبُوا وَنَبْقَى"، فَقَالَ:"صَدَقَ أَبُو الْعَالِيَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالعالیہ نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: اے ابوالعالیہ! کیا تم مفتی بننا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: نہیں، لیکن اس سے مامون بھی نہیں ہوں کہ آپ لوگ رخصت ہو جائیں، اور ہم باقی رہ جائیں، فرمایا: ابوالعالیہ صحیح کہتے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 563]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 563] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن اسے امام دارمی کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیا۔
الحكم: إسناده صحيح