إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَ مُحَمَّدًا صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ السَّلامُ وَعَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ، فَقَالُوا: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، بِمَ فَضَّلَهُ عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ؟، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِأَهْلِ السَّمَاءِ وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ سورة الأنبياء آية 29، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا {1} لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 1-2، قَالُوا: فَمَا فَضْلُهُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ السَّلامُ؟ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ سورة إبراهيم آية 4، وَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا كَافَّةً لِلنَّاسِ سورة سبأ آية 28، فَأَرْسَلَهُ إِلَى الْجِنِّ وَالْإِنْسِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تمام انبیاء علیہم السلام اور آسمان والوں پر فضیلت عطا کی، لوگوں نے پوچھا: اے عباس کے بیٹے! آسمان والوں پر کیسی فضیلت عطا فرمائی۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ تعالی نے آسمان میں رہنے والوں کے لئے فرمایا: ”ان میں سے کوئی بھی کہدے کہ اللہ کے سوا میں عبادت کے لائق ہوں تو ہم اسے دوزخ کی سزا دیں گے، ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔“ [الأنبياء: 29/21] (یعنی بزرگی کے باوجود وہ جہنم رسید ہوں گے) اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا: ”اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو ایک ظاہر فتح دی ہے تاکہ جو کچھ تیرے گناہ آگے کئے ہوئے اور جو پیچھے رہے اللہ تعالی معاف فرما دے۔“ [الفتح: 2،1/48] (یعنی آپ جو بھی کریں اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی مواخذہ نہ ہو گا)۔ انہوں نے کہا: پھر تمام انبیاء پر آپ کی کیا فضیلت ہے؟ جواب دیا: اللہ تعالی نے فرمایا: ”ہم نے ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں ہی بھیجا ہے تاکہ ان کے سامنے وضاحت سے بیان کر دے۔“ [ابراهيم: 4/14] اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے اللہ تعالی نے فرمایا: ”ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے بھیجا ہے۔“ [سبا: 28/34] پس آپ کی رسالت تمام جن و انسان کے لئے ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 47]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 47] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور یہ اثر [مستدرك حاكم 350/2] ، [معجم الطبراني الكبير 11610] ، [دلائل النبوة 486/5] وغیرہ میں منقول ہے۔
الحكم: إسناده صحيح