بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3496 — قنطار کی مقدار کتنی ہوتی ہے
کتب سنن دارمی قرآن کے فضائل قنطار کی مقدار کتنی ہوتی ہے حدیث 3496
حدیث نمبر: 3496 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا، أَبَانُ الْعَطَّارُ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "الْقِنْطَارُ: اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: قنطار بارہ ہزار کا ہوتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3496]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن إلى أبي هريرة، [مكتبه الشامله نمبر: 3507] »
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک اس روایت کی سند حسن ہے، اور مسند احمد میں مرفوعاً روایت ہے۔ دیکھئے: [أحمد 363/2] ، اور اس میں ہے کہ قنطار بارہ ہزار اوقیہ کا ہوتا ہے، اور ہر اوقیہ زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے۔
الحكم: إسناده حسن إلى أبي هريرة
← پچھلی حدیث (3495) باب پر واپس اگلی حدیث (3497) →