أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، شُعْبَةُ ، أَبِي الْحَسَنِ ، رَجُل
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مُهَاجِرٍ، قَالَ:"جَاءَ رَجُل زَمَنَ زِيَادٍ إِلَى الْكُوفَةِ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، قَالَ: وَرُكْبَتِي تُصِيبُ أَوْ تَمَسُّ رُكْبَتَهُ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، قَالَ: "بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ"، وَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، قَالَ: غُفِرَ لَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالحسن مہاجر نے کہا: زیاد کے زمانے میں ایک صحابی کوفہ تشریف لائے، میں نے ان کو سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ راستے میں تھا اور میرا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھٹنے مبارک سے مس (ٹچ) ہو رہا تھا، آپ نے ایک صحابی کو سنا وہ « ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ » پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص شرک سے بری ہو گیا“، ایک دوسرے شخص کو « ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾ » پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”اس کی مغفرت ہو گئی۔“ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3458]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح جهالة الصحابي غير قادحة في الحديث، [مكتبه الشامله نمبر: 3469] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور قواعدِ حدیث کے مطابق صحابی کی جہالت مانع صحت نہیں ہے۔ دیکھئے: [فضائل القرآن لابن الضريس 305] ، [النسائي فى الكبرىٰ 15040] ، [أحمد 63/4]
وضاحت
(تشریح حدیث 3457)
اس حدیث سے ان دونوں سورتوں کی اور ان دونوں صحابہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ خبر دینا کہ یہ شخص شرک سے بری ہو گیا اور یہ بخش دیا گیا اسی بات کی دلیل ہے کہ ایمان و یقین اور اعتقادِ سلیم سے جس شخص نے ان سورتوں کو پڑھا وہ یقین کے ساتھ ان مراتبِ عالیہ کا مستحق ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو الله تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ ان پاکیزہ نفوس نے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صرف اس کی عبادت کا بیڑا اٹھایا، شرک سے برأت ظاہر کی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں شرک سے بری کر کے اور مغفرت دے کر جنّت کا مستحق قرار دے دیا۔
الحكم: إسناده صحيح جهالة الصحابي غير قادحة في الحديث