عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ ، إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ سَمِعْتُ عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: أَخَذَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِيَدِي، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّكَ إِنْ بَقِيتَ، سَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ: فَصِنْفٌ لِلَّهِ، وَصِنْفٌ لِلْجِدَالِ، وَصِنْفٌ لِلدُّنْيَا، وَمَنْ طَلَبَ بِهِ أَدْرَكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ایاس بن عامر کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا: اگر تم زندہ رہے (تو دیکھو گے کہ) قرآن کو تین قسم کے لوگ پڑھیں گے، جن میں سے ایک قسم قرآن کو اللہ کے لئے پڑھے گی، اور ایک قسم لڑائی جھگڑے (مناظرے) کے لئے، اور ایک صنف دنیا کے لئے پڑھے گی اور جس نے مطلب براری کے لئے پڑھا وہ مطلب حاصل کرے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3361]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3372] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [موارد الظمآن 506] و [مسند على 734]
الحكم: إسناده صحيح