بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3332 — وقف کا بیان
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل وقف کا بیان حدیث 3332
حدیث نمبر: 3332 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ:"أَنَّ الزُّبَيْرَ جَعَلَ دُورَهُ صَدَقَةً عَلَى بَنِيهِ، لَا تُبَاعُ وَلَا تُوَرَّثُ، وَأَنَّ لِلْمَرْدُودَةِ مِنْ بَنَاتِهِ أَنْ تَسْكُنَ غَيْرَ مُضِرَّةٍ وَلَا مُضَارٍّ بِهَا، فَإِنْ هِيَ اسْتَغْنَتْ بِزَوْجٍ، فَلَا حَقَّ لَهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام نے اپنے والد (عروہ بن الزبیر) سے روایت کیا کہ سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نے اپنے گھروں کو اپنے بیٹوں کے لئے وقف کر دیا اور یہ شرط لگا دی کہ نہ وہ بیچے جائیں اور نہ وراثت میں تقسیم کئے جائیں، اور اپنی ایک طلاق شدہ لڑکی سے کہا کہ وہ اس میں قیام کریں اور اس گھر کو نقصان نہ پہنچائیں، اور نہ کوئی اور اس میں نقصان کرے، اور خاوند والی بیٹی کو اس گھر میں رہنے کا حق نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3332]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3343] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابواسامہ: حماد بن اسامہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 974] ، [البيهقي 166/6] ۔ نیز امام بخاری نے اس کو تعليقاً «كتاب الوصايا باب اذا وقف ارضا ......» میں حدیث [2778] سے پہلے ذکر کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 3331)
اصل چیز کو بیع، وراثت یا ہبہ سے محفوظ کر لینا اور اس کی آمدنی کسی خاص مد کیلئے فی سبیل الله متعین کرنا وقف کہلاتا ہے، یعنی اسے فروخت یا ہبہ کرنا یا بطورِ ترکہ ورثاء میں تقسیم کرنا درست نہیں۔
اولاد کے لئے بھی وقف صحیح ہے جیسا کہ مذکور بالا اثر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کو اپنے بیٹوں کے لئے وقف کیا۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (3331) باب پر واپس اگلی حدیث (3333) →