بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3150 — آزاد کردہ غلام کی میراث کا بیان
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان آزاد کردہ غلام کی میراث کا بیان حدیث 3150
حدیث نمبر: 3150 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: َقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "السَّائِبَةُ يَضَعُ مَالَهُ حَيْثُ شَاءَ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ: قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْ سَلَمَةَ أَحَدٌ غَيْرِي.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعمرو الشیبانی نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آزاد کردہ غلام اپنا مال جہاں چاہے رکھ دے، عبداللہ بن زید نے کہا: شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: سلمہ بن کہیل سے یہ میرے علاوہ کسی نے نہیں سنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3150]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3159] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11480] و [البيهقي 302/10 فى الولاء، باب من استحب من السلف التنزه عن ميراث السائبه و إن كان مباحًا] ۔ ابوعمرو کا نام سعد بن ایاس الشیبانی ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 3149)
سائبہ کا مطلب ہے کہ وہ گائے کی طرح سے آزاد چھوڑ دیا جائے۔
ایک شخص نے کسی لونڈی یا غلام کو آزاد کیا ہے تو اس آزادی کے سبب آزاد کرنے والا اپنے آزاد کردہ غلام اور لونڈی کا وارث ہوگا، چنانچہ اگر آزاد شده فوت ہو جائے اور اس کا کوئی نسبی وارث نہ ہو تو یہ آزاد کرنے والا اس کا وارث ہوگا، اس لئے کہ فرمانِ رسالت ہے: آزاد کردہ کی ولاء (حقِ وراثت) اس شخص کے لئے ہے جس نے اسے آزاد کیا «(الولاء لمن اعتق. متفق عليه)» جیسا کہ [كتاب الفرائض، باب 31، اثر رقم 3041-3054] میں گذر چکا ہے، لیکن اگر کوئی «تورعا» اور «تنزها» اپنے آزاد کردہ غلام یا لونڈی کی میراث قبول نہ کرے تو یہ مستحب ہے، مذکور باب میں اسی کا تذکرہ ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (3149) باب پر واپس اگلی حدیث (3151) →