حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَا يَرِثُ وَلَدُ الزِّنَا، إنما يرث من لم يقم على أبيه الحد، أو تملك أمه بنكاح 3، أو شراء".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ولد الزنا (حرامی) وارث نہیں ہو گا، وارث وہ ہو گا جس کے باپ پر حد جاری نہ کی گئی ہو، یا جو اس بچے کی ماں کا نکاح یا خریدنے کی وجہ سے مالک ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3143]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف هشيم مدلس وقد عنعن، [مكتبه الشامله نمبر: 3152] »
اس اثر کی سند میں ہشیم مدلس ہیں اور عن سے روایت کی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11465]
الحكم: إسناده ضعيف هشيم مدلس وقد عنعن