بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 301 — اس کا بیان کہ علم خشیت اور اللہ کا تقویٰ ہے
کتب سنن دارمی مقدمہ اس کا بیان کہ علم خشیت اور اللہ کا تقویٰ ہے حدیث 301
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَخِيهِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ الْمِنْقَرِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ يَوْمًا فِي شَيْءٍ، قَالَهُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، لَيْسَ هَكَذَا يَقُولُ الْفُقَهَاءُ، فَقَالَ: "وَيْحَكَ! وَرَأَيْتَ أَنْتَ فَقِيهًا قَطُّ , إِنَّمَا الْفَقِيهُ الزَّاهِدُ فِي الدُّنْيَا، الرَّاغِبُ فِي الْآخِرَةِ، الْبَصِيرُ بِأَمْرِ دِينِهِ، الْمُدَاوِمُ عَلَى عِبَادَةِ رَبِّهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عمران منقری نے کہا کہ میں نے ایک دن حسن رحمہ اللہ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے کہی تھی کہ اے ابوسعید! فقہاء تو اس طرح نہیں کہتے، انہوں نے جواب دیا: تمہاری خرابی ہو، کیا تم نے کبھی کوئی فقیہ دیکھا ہے، فقیہ وہ ہے جو دنیا سے کنارہ کش ہو، آخرت کی طرف رغبت رکھتا ہو، دین کے معاملے میں بصیر ہو، اور اپنے رب کی عبادت پر قائم و دائم ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 301]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 302] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 17037] ، [حلية الاولياء 147/2] ، [زهد ابن مبارك 30] ، [الفقيه والمتفقه 1066]
وضاحت
(تشریح احادیث 298 سے 301)
یعنی عالم بننے کے لئے طالبِ علم اور باعمل ہونا ضروری ہے، اور خالی بحث و مباحثہ، علم میں تعلیٰ، غرور و گھمنڈ رکھنا، اور دینی باتوں کے بجائے فالتو بکواس میں لگے رہنا، یہ سب گناہ ہیں، ایک عالم کو ان سب سے بچنا چاہئے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (300) باب پر واپس اگلی حدیث (302) →