بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 299 — اس کا بیان کہ علم خشیت اور اللہ کا تقویٰ ہے
کتب سنن دارمی مقدمہ اس کا بیان کہ علم خشیت اور اللہ کا تقویٰ ہے حدیث 299
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: "لَا تَكُونُ عَالِمًا حَتَّى يَكُونَ فِيكَ ثَلَاثُ خِصَالٍ: لَا تَبْغِي عَلَى مَنْ فَوْقَكَ، وَلَا تَحْقِرُ مَنْ دُونَكَ، وَلَا تَأْخُذُ عَلَى عِلْمِكَ دُنْيَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوحازم نے کہا: تم اس وقت تک عالم نہیں بن سکتے جب تک کہ تین صفات تمہارے اندر نہ پائی جائیں: جو تم سے اعلیٰ ہیں ان پر ظلم نہ کرو، اپنے سے کم علم کو حقیر نہ سمجھو، اور اپنے علم سے دنیا نہ خریدو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 299]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «مبارك بن فضال يدلس تدليس تسوية وقد عنعن. فالإسناد ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 300] »
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 243/3] ، نیز اس معنی کی روایت حدیث نمبر (297) میں گزر چکی ہے جو ایک دوسرے کی شاہد ہو سکتی ہے۔
الحكم: مبارك بن فضال يدلس تدليس تسوية وقد عنعن. فالإسناد ضعيف
← پچھلی حدیث (298) باب پر واپس اگلی حدیث (300) →