مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، جَعْفَرٍ الْأَحْمَرِ ، السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيل ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ، عَنْ جَعْفَرٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ، فَجِئْتُ وَقَدْ قُبِض، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ فِي مَقَامِهِ، فَأَطَالَ الثَّنَاءَ وَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "كُفْرٌ بِاللَّهِ انْتِفَاءٌ مِنْ نَسَبٍ وَإِنْ دَقَّ، وَادِّعَاءُ نَسَبٍ لَا يُعْرَفُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قیس بن ابی حازم نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کر لوں، لیکن جب (مدینہ) پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وفات پا چکے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قائم مقام (خلیفہ) تھے، پس انہوں نے بہت مدح سرائی کی اور بہت روئے اور کہا: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: ”معمولی سے نسب کا بھی انکار کرنا اللہ کے ساتھ کفر ہے، اور غیر معروف (نا معلوم) نسب کا دعویٰ کرنا بھی اللہ کے ساتھ کفر ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده تالف، [مكتبه الشامله نمبر: 2905] »
اس روایت کی سند بہت ضعیف ہے، گرچہ طبرانی نے [الأوسط 2839] میں اور ہیثمی نے [مجمع الزوائد 352] میں اسے ذکر کیا ہے۔
الحكم: إسناده تالف