بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2861 — اہل الجنۃ اور ان کی آسودگی کا بیان
کتب سنن دارمی دل کو نرم کرنے والے اعمال کا بیان اہل الجنۃ اور ان کی آسودگی کا بیان حدیث 2861
حدیث نمبر: 2861 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، مُعَاذٌ يَعْنِي: ابْنَ هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي: ابْنَ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "أَهْلُ الْجَنَّةِ شَبَابٌ، جُرْدٌ، مُرْدٌ، كُحْلٌ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُمْ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے لوگ جرد مرد سرمگیں ہیں، نہ ان کے کپڑے پھٹیں گے نہ ان کی جوانی فنا ہوگی۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2861]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن محمد بن يزيد أبو هاشم الرفاعي، [مكتبه الشامله نمبر: 2868] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2539] ، [أبويعلی 5088] ، [أبونعيم فى صفة الجنة 356، له شاهد فى الطبراني فى الصغير 140/2، وعنه غيرهم]
وضاحت
(تشریح احادیث 2859 سے 2861)
«جُرْدٌ» اس شخص کو کہتے ہیں جس کے جسم، بغل و زیرِ ناف وغیرہ پر بال نہ ہوں، اور «مُرْدٌ» جمع ہے امرد کی اور امرد ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کے داڑھی مونچھ نہ آئی ہو، عالمِ عنفوانِ شباب میں ہو، اور ان اماکن پر بالوں کا نہ ہونا جنّت میں حسن و خوبصورتی کا باعث ہوگا، اور «كُحْلٌ» کحیلی کی جمع ہے جس کے معنی اکحل کے ہیں، یعنی جس کی پلکیں دراز اور اس کے منبت سیاه، گویا سرمہ لگا ہوا ہے۔
یہ تمام صفات جنتی لوگوں کے حسن و شباب کی ہیں۔
«جعلنا اللّٰه وإياكم من أهلها.»
الحكم: إسناده حسن محمد بن يزيد أبو هاشم الرفاعي
← پچھلی حدیث (2860) باب پر واپس اگلی حدیث (2862) →