عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا أَوْ دَمًا خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ اور خون سے بھرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس کو شعر سے بھرے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2740]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2747] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6154] ، [أبوداؤد 5009] ، [أبويعلی 5516]
وضاحت
(تشریح حدیث 2739)
اس وعید سے مقصود ایسے اشعار اور غزلیں ہیں جو عشق و فسق سے بھری ہوں، یا جن میں بے جا مدح و ذم ہو، اچھا شعر کہنا اور یاد کرنا اس وعید میں داخل نہیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو شعر کہنے کی اجازت دی، اور حدیث کے اس ٹکڑے «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً» سے بھی شعر و شاعری کا جواز نکلتا ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح