إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي هَاشِمٍ ، إِبْرَاهِيمَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ"، فَقِيلَ لَهُ: أَمَا تَحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا؟، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ أَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ عَلْقَمَةُ، أَحَبُّ إِلَيَّ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا، کہا گیا کیا آپ کو رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے علاوہ کوئی اور حدیث یاد نہیں؟ فرمایا: یاد تو ہے، لیکن مجھے قال عبدالله، قال علقمہ کہنا زیادہ پسند ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 274]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 275] »
اس قول کی سند صحیح ہے لیکن مرسل ہے، اور حدیث محاقلہ و مزابنہ متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 2207] ، [صحيح مسلم 1539] اس حدیث کی مزید تفصیل کتاب البيوع میں آگے آ رہی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 272 سے 274)
«محاقله» : کھڑی کھیتی کو پکنے سے پہلے بیچنا۔
«مزابنه» : کچی کھجور پکنے سے پہلے پکی کھجور کے بدلے بیچنے کو کہتے ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح وهو مرسل