بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2737 — جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولے اس کا بیان
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولے اس کا بیان حدیث 2737
حدیث نمبر: 2737 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ، وَيْلٌ لَهُ! وَيْلٌ لَهُ!".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
بہز بن حکیم نے اپنے باپ سے، انہوں نے دادا سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: خرابی ہے اس شخص کے لئے جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولے، خرابی ہے اس کے لئے، خرابی ہے اس کے لئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2737]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2744] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4990] ، [ترمذي 2316] ، [أحمد 7/5] ، [طبراني 403/19، 951] ، [الحاكم 144] ، [شرح السنة 3417، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2736)
ویل کے معنی خرابی اور ہلاکت کے ہیں، نیز ویل جہنم میں ایک گڈھے کانام بھی ہے، جو شخص محض لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹی کہانیاں یا افسانے یا لطیفے گڑھے اس کے لئے آخرت میں سخت وعید ہے، اور جھوٹ ہر حال میں مذموم ہے، اور جھوٹے پر الله کی لعنت ہوتی ہے۔
الحكم: إسناده جيد
← پچھلی حدیث (2736) باب پر واپس اگلی حدیث (2738) →