بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2736 — مذاق کرنے کا بیان
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں مذاق کرنے کا بیان حدیث 2736
حدیث نمبر: 2736 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ غُلَامٌ يَسُوقُ بِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات (کی سواری) کو لے کر چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے انجثہ! آبگینوں (شیشوں) کو آہستہ لے کر چلو۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2736]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده لا خطم له ولا زمام ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2743] »
اس سند کی کوئی حیثیت نہیں ہے، لیکن یہ حدیث دوسری سند سے متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6149] ، [مسلم 2323] ، [أبويعلی 2809] ، [ابن حبان 5800] ، [الحميدي 1243]
وضاحت
(تشریح حدیث 2735)
قواریر شیشے یا شیشے کی بوتل کو کہتے ہیں۔
اس سے مراد عورتیں (امہات المومنین) تھیں جو فی الواقع شیشے کی طرح نازک ہوتی ہیں۔
انجشہ نامی غلام اونٹوں کا چلانے والا بڑا خوش آواز تھا، اور اس کے گانے سے اونٹ مست ہو کر خوب بھاگ رہے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ڈر ہوا کہ کہیں عورتیں گرنہ جائیں، اس لئے فرمایا: آہستہ لے چل۔
اس میں مزاح یا مذاق کا پہلو اس طرح ہے کہ عورتوں کو شیشے سے تشبیہ دی اور انہیں شیشے کی طرح نازک قرار دیا۔
یہ تشبیہ بہت عمدہ تھی۔
عورتیں اسی طرح نازک ہوتی ہیں۔
صنفِ نازک پر یہ رحمۃ للعالمین کا احسانِ عظیم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی کمزوری و نزاکت کا مردوں کو قدم قدم پر احساس دلایا۔
(راز رحمہ اللہ)۔
الحكم: إسناده لا خطم له ولا زمام ولكن الحديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (2735) باب پر واپس اگلی حدیث (2737) →