بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 27 — اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی نکال کر آپ کو جو تکریم عطا کی اس کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی نکال کر آپ کو جو تکریم عطا کی اس کا بیان حدیث 27
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، وَحُصَيْنٍ ، سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، وَحُصَيْنٍ، سَمِعَا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَصَابَنَا عَطَشٌ فَجَهَشْنَا، فَانْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،"فَوَضَعَ يَدَهُ فِي تَوْرٍ، فَجَعَلَ يَفُورُ كَأَنَّهُ عُيُونٌ، مِنْ خَلَلِ أَصَابِعِهِ"، وَقَالَ: "اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ"، فَشَرِبْنَا حَتَّى وَسِعَنَا وَكَفَانَا، وَفِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ: فَقُلْنَا لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ؟، قَالَ: كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِئَةٍ وَلَوْ كُنَّا مِئَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہم کو پیاس نے آ ليا (یہ صلح حدیبیہ کا واقعہ ہے) ہم رو پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک ایک برتن پر رکھا اور آپ کی انگلیوں سے (پانی ایسے) ابلنے لگا گویا کہ وہ پانی کے چشے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: الله کا نام لے کر شروع کرو، راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم نے پانی پیا اور وہ ہم سب کے لئے کافی رہا (بخاری کی روایت میں ہے: پیا اور وضو کیا)، عمرو بن مرہ کی روایت میں ہے کہ ہم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا اس وقت تم کتنے افراد تھے؟ کہا: (1500) پندرہ سو تھے (بخاری میں 1400 چودہ سو ہے)، اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمارے لئے کافی تھا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 27]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 27] »
اس روایت کی یہ سند صحیح ہے اس کی اصل صحیحین میں موجود ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 4152] ، و [مسلم 1856] ، [مسند أبى يعلی 2107] ، و [صحيح ابن حبان 6538] ، [نسائي 77]
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (26) باب پر واپس اگلی حدیث (28) →