بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2698 — فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصاویر ہوں
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصاویر ہوں حدیث 2698
حدیث نمبر: 2698 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو النُّعْمَانِ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، الْحَارِثُ الْعُكْلِيُّ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ الْعُكْلِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِنَّ الْمَلَكَ لَا يَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ، وَلَا جُنُبٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جہاں کتا ہو، یا تصویر، یا جنبی ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2698]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد إذا كان عبد الله بن نجي سمعه من علي، [مكتبه الشامله نمبر: 2705] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 227، 4152] ، [نسائي 261، 4292] ، [ابن ماجه 3650] ، [أبويعلی 313] ، [ابن حبان 1205] ، [موارد الظمآن 1484]
وضاحت
(تشریح حدیث 2697)
یہاں اس حدیث میں رحمت کے فرشتے مراد ہیں جن کو ان چیزوں سے نفرت ہے، جو مسلمان اور سچے مومنوں کے پاس شوق اور محبت سے اپنی مرضی سے آتے جاتے ہیں لیکن اگر الله تعالیٰ کا حکم ہو تو ہرجگہ پہنچیں گے: «﴿لَا يَعْصُونَ اللّٰهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾ [التحريم: 6] » ترجمہ: اللہ تعالیٰ جو حکم ان کو دیتا ہے وہ اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے ہیں بلکہ جو حکم ان کو دیا جاتا اس کو بجا لاتے ہیں۔
ورنہ لازم آئے گا کہ جس کمرے میں کتا یا تصویر ہو وہاں ملک الموت بھی داخل نہ ہو۔
ایک ملحد نے اسی قسم کا اعتراض کیا تو کسی عامی نے جواب دیا کہ آپ ہر وقت کتا اپنے ساتھ رکھیں گے تو آپ کی روح قبض کرنے کے لئے وہ فرشتہ نہ آئے گا جو مؤمنین اور صالحین کی روح قبض کرتا ہے، بلکہ وہ فرشتہ آئے گا جو کتوں اور سوروں کی روح قبض کیا کرتا ہے۔
(وحیدی باختصار)۔
الحكم: إسناده جيد إذا كان عبد الله بن نجي سمعه من علي
← پچھلی حدیث (2697) باب پر واپس اگلی حدیث (2699) →