بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2697 — تصویریں آویزاں کرنے کی ممانعت کا بیان
کتب سنن دارمی کتاب الاستئذان کے بارے میں تصویریں آویزاں کرنے کی ممانعت کا بیان حدیث 2697
حدیث نمبر: 2697 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةُ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: "كَانَ لَنَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَجَعَلْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَنَهَانِي أَوْ قَالَتْ: فَكَرِهَهُ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہمارے پاس ایک چادر تھی جس میں تصویریں بنی تھیں، میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھا، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روک دیا، یا یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ناپسند کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لہٰذا میں نے اس کو کاٹ کر اس کے تکیے بنا دیئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2697]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2704] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2107] ، [نسائي 5361] ، [أبويعلی 4403] ، [ابن حبان 5843] ، [الحميدي 253]
وضاحت
(تشریح حدیث 2696)
انسان یا حیوان یا اور کسی جاندار کی تصویر بنانا یا لٹکانا حرام ہے۔
آج کل کپڑوں اور لباس اور دیواروں پر تصویریں آویزاں کرنا عام بات ہے جو اسلامی احکامات کے سراسر خلاف ہے، ان تصاویر کو لٹکا کر ان کی عزت و تکریم کرنا، اگربتی جلانا، اس پر ہار پھول چڑھانا، یہ سب مشرکانہ رسوم ہیں۔
شریعتِ اسلامیہ نے اس سے روکا ہے، اگر کسی کپڑے پر تصویر ہو تو اسے کاٹ کر اس کا تکیہ وغیرہ بنا لینا جائز ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (2696) باب پر واپس اگلی حدیث (2698) →