بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 257 — علم کے اٹھ جانے (ختم ہو جانے) کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ علم کے اٹھ جانے (ختم ہو جانے) کا بیان حدیث 257
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، بَقِيَّةُ ، صَفْوَانُ بْنُ رُسْتُمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عُمَرُ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ رُسْتُمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: تَطَاوَلَ النَّاسُ فِي الْبِنَاءِ فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ:"يَا مَعْشَرَ الْعُرَيْبِ، الْأَرْضَ الْأَرْضَ، إِنَّهُ لَا إِسْلَامَ إِلَّا بِجَمَاعَةٍ، وَلَا جَمَاعَةَ إِلَّا بِإِمَارَةٍ، وَلَا إِمَارَةَ إِلَّا بِطَاعَةٍ، فَمَنْ سَوَّدَهُ قَوْمُهُ عَلَى الْفِقْهِ، كَانَ حَيَاةً لَهُ وَلَهُمْ، وَمَنْ سَوَّدَهُ قَوْمُهُ عَلَى غَيْرِ فِقْهٍ، كَانَ هَلَاكًا لَهُ وَلَهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ عمارت بنانے میں فخر کرنے لگے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عرب کے لوگو! زمین سے بچو، زمین سے بچو، اسلام بِنا جماعت کے قائم نہیں رہ سکتا، اور جماعت بغیر حکومت کے، اور حکومت و امارت بغیر اطاعت کے قائم نہیں رہ سکتی، پس جس کو اس کی قوم نے (علم و فقہ) کی بنا پر سردار بنایا وہ اس کے اور قوم کے لئے زندگی ہے، اور جس کو اس کی قوم نے فقہ نہ ہونے پر سردار بنایا یہ اس کی اور اس قوم کی ہلاکت ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 257]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: الأولى جهالة صفوان بن رستم والثانية الانقطاع. وعبد الرحمن بن ميسرة لم يدرك تميما الداري، [مكتبه الشامله نمبر: 257] »
اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں جن کے سبب ضعیف ہے، اور ابن عبدالبر نے [جامع بيان العلم 326] میں اس کو ذکر کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 256)
ان تمام احادیث و آثار سے علمائے کرام کی قدر و قیمت ثابت ہوتی ہے، علماء نہ رہیں گے تو علم بھی نہ رہے گا، نیز ان میں علم حاصل کرنے کی ترغیب بھی ہے۔
الحكم: في إسناده علتان: الأولى جهالة صفوان بن رستم والثانية الانقطاع. وعبد الرحمن بن ميسرة لم يدرك تميما الداري
← پچھلی حدیث (256) باب پر واپس اگلی حدیث (258) →