بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2537 — مجوس سے جزیہ لینے کا بیان
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل مجوس سے جزیہ لینے کا بیان حدیث 2537
حدیث نمبر: 2537 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، بَجَالَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بَجَالَةَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:"لَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
بجالہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجوس سے جزیہ نہیں لیا تھا یہاں تک کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہجر کے مجوس سے جزیہ لیا تھا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2537]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط البخاري، [مكتبه الشامله نمبر: 2543] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3156] ، [أبوداؤد 3043] ، [ترمذي 1586] ، [أبويعلی 860] ، [الحميدي 64]
وضاحت
(تشریح حدیث 2536)
مجوس وہ لوگ ہیں جو آگ کی عبادت و پوجا کرتے ہیں، اور ہجر بحرین کا بہت بڑا شہر تھا جو احساء کے قریب تھا، اور جزیہ وہ معاوضہ ہے جو اہلِ ذمہ سے ان کے دار السلام میں رہنے اور ان کی جان و مال کی حفاظت کے بدلے میں لیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجوسی مشرکین سے جزیہ وصول کیا جائے گا، اور یہ صرف اہلِ کتاب پر نہیں، جیسا کہ بعض علماء کا خیال ہے، بلکہ دیگر مشرکین سے بھی جزیہ وصول کیا جائے گا۔
(عبدالرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ)۔
الحكم: إسناده صحيح على شرط البخاري
← پچھلی حدیث (2536) باب پر واپس اگلی حدیث (2538) →