بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 252 — علم کے اٹھ جانے (ختم ہو جانے) کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ علم کے اٹھ جانے (ختم ہو جانے) کا بیان حدیث 252
أَحْمَدُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو عَاصِمٍ ، عَبْثَرٌ ، بُرْد ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ بُرْد، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "النَّاسُ عَالِمٌ وَمُتَعَلِّمٌ، وَلَا خَيْرَ فِيمَا بَعْدَ ذَلِكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں: عالم اور متعلم، جو ان کے علاوہ ہیں ان میں کوئی خیر نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 252]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه سليمان بن موسى لم يدرك أبا الدرداء، [مكتبه الشامله نمبر: 252] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے، اور [الزهد لأحمد ص: 136] ، [مصنف ابن أبى شبية 6172] ، [حلية الأولياء 212/1] ، [جامع بيان العلم 138، 140] ، [إبانة 210] میں یہ اثر موجود ہے اور «الدُّنْيَا مَلْعُوْنَةٌ مَلْعُوْنٌ مَا فِيْهَا إِلَّا ذِكْرَ اللهِ وَمَا وَالَاهْ وَعَالِمٌ وَمُتَعَلِّمٌ» سے اس قول کی تائید ہوتی ہے۔ یہ حدیث آگے (330) پر آ رہی ہے۔ اس لئے معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [شرح السنة 4028]
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه سليمان بن موسى لم يدرك أبا الدرداء
← پچھلی حدیث (251) باب پر واپس اگلی حدیث (253) →