بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2517 — امام یا سربراہ کی طرف سے حصے سے زیادہ دینے کا بیان
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل امام یا سربراہ کی طرف سے حصے سے زیادہ دینے کا بیان حدیث 2517
حدیث نمبر: 2517 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابِنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابِنِ عُمَرَ، قَالَ: "بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فِيهَا ابْنُ عُمَر، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً، فَكَانَتْ سِهَامُهُمْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا جس میں خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، ان کو مالِ غنیمت میں بہت سارے اونٹ ہاتھ آئے اس لئے اس لشکر کے ہر سپاہی کو بارہ بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ ملے تھے، پھر ایک ایک اونٹ اور انعام میں ملا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2517]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2524] »
اس روایت کی سند قوی اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3134] ، [مسلم 1749] ، [الموطأ فى الجهاد 15] ، [أبويعلی 5826] ، [ابن حبان 4832]
وضاحت
(تشریح حدیث 2516)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غازی کو مالِ غنیمت میں سے مقرر حصے کے علاوہ زائد مال بھی دیا جا سکتا ہے، مذکورہ بالا حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ سردارِ لشکر نے یہ انعام خمس میں سے دیا ہوگا، اور یہ تقسیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر سکوت فرمایا اس لئے حجت ہے، لہٰذا غازی کو حصے سے کچھ زیادہ بھی دیا جا سکتا ہے۔
الحكم: إسناده قوي
← پچھلی حدیث (2516) باب پر واپس اگلی حدیث (2518) →