بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2459 — خواتین کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کا بیان
کتب سنن دارمی کتاب جہاد کے بارے میں خواتین کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کا بیان حدیث 2459
حدیث نمبر: 2459 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ ، أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، هِشَامٍ ، حَفْصَةَ ، أُمِّ عَطِيَّةَ
أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: "غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أُدَاوِي الْجَرِيحَ أَوِ الْجَرْحَى وَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ، وَأَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام عطیہ (نسیبہ بنت الحارث) رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی، میں زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی، ان کے لئے کھانا بناتی اور ان کے سامان کی حفاظت کرتی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب الجهاد/حدیث: 2459]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وأبو إسحاق هو: إبراهيم بن محمد بن الحارث، [مكتبه الشامله نمبر: 2466] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1812] ، [ابن ماجه 2856] ، [أحمد 84/5، 407/6] ، [ابن أبى شيبه 15497]
وضاحت
(تشریح حدیث 2458)
اس حدیث سے عورت کا مجاہدین کے ساتھ جہاد میں نکلنا، مریضوں کی تیمارداری، مجاہدین کی خدمت اور ان کے سامان کی نگرانی کرنا ثابت ہوا، یعنی وقتِ ضرورت عورت جہاد میں شریک ہو سکتی ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح وأبو إسحاق هو: إبراهيم بن محمد بن الحارث
← پچھلی حدیث (2458) باب پر واپس اگلی حدیث (2460) →