بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2442 — تیر اندازی کی فضیلت اور اس کا حکم
کتب سنن دارمی کتاب جہاد کے بارے میں تیر اندازی کی فضیلت اور اس کا حکم حدیث 2442
حدیث نمبر: 2442 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَّامٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ الثَّلَاثَةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالْمُمِدُّ بِهِ، وَالرَّامِيَ بِهِ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَلَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا". وَقَالَ: "كُلُّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهَ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ" وَقَالَ: "مَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِّمَهُ، فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عَلِّمَهُ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: الله عز و جل ایک تیر کے سبب تین آدمیوں کو جنت میں داخل کریگا، تیر بنانے والے کو اگر اس کے بنانے میں اچھی نیت کی ہوگی، اس کی مدد کرنے والے اور تیر چلانے والے کو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیراندازی کرو، سواری کرو، اور میرے نزدیک تیر اندازی محبوب ہے سواری کرنے سے، اور فرمایا: اور ہر کھیل جو آدمی کھیلتا ہے وہ باطل ہے سوائے اپنی کمان سے تیراندازی کرنے، اور گھوڑے کی تربیت کرنے، اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے کے، یہ تین کھیل حق ہیں۔ اور فرمایا: جس نے سیکھنے کے بعد تیراندازی چھوڑ دی اس نے ناشکری کی اس کی جس نے اسے سکھایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الجهاد/حدیث: 2442]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2449] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2513] ، [ترمذي 1627] ، [نسائي 3580] ، [ابن ماجه 2811] ، [أحمد 144/4، 146] ، [سعيد بن منصور 2450] ، [طيالسي 1179] ، [طحاوي فى مشكل الآثار 368/1] ، [البيهقي 12/10، وغيرهم وله شواهد]
وضاحت
(تشریح حدیث 2441)
اس حدیث سے تیر اندازی کی اور گھوڑ سواری کی فضیلت ثابت ہوئی، اب تیر کے بدلے بندوق و توپ اور ٹینک وغیرہ آلاتِ حرب کی ٹریننگ اورمشق ہے، اور ان کی تعلیم و تربیت کے لئے سفر کرنا بھی جہاد میں داخل ہے۔
یہ تین کھیل صحیح اور حق ہیں، یعنی لغو اور بیکار و باطل نہیں ہیں، تیراندازی و گھوڑے کی دیکھ بھال و تربیت میں آدمی جہاد کی تیاری کرتا ہے، اور تیسرے بیوی بچوں کے ساتھ کھیل میں الفت، محبت، انسیت اور بیوی کے حق کی ادائیگی ہے جس سے نسلِ انسانی کا قیام و بقا ہے۔
الحكم: إسناده جيد
← پچھلی حدیث (2441) باب پر واپس اگلی حدیث (2443) →