بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2429 — کون سا جہاد سب سے افضل ہے؟
کتب سنن دارمی کتاب جہاد کے بارے میں کون سا جہاد سب سے افضل ہے؟ حدیث 2429
حدیث نمبر: 2429 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟. قَالَ: "مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ فرمایا: وہ جہاد سب سے افضل ہے جس میں مجاہد کا گھوڑا مارا جائے اور اس کا خون بہا دیا جائے، (یعنی جس جہاد میں مجاہد اپنا جان و مال سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کر دے اور شہید ہو جائے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الجهاد/حدیث: 2429]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط مسلم، [مكتبه الشامله نمبر: 2437] »
اس حدیث کی سند صحیح مسلم کی شرط پر ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 2794] ، [أبويعلی 2081] ، [ابن حبان 2639] ، [موارد الظمآن 1608] ، [الحميدي 1313]
وضاحت
(تشریح حدیث 2428)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو انسان اپنا مال لے کر راہِ خدا میں نکلے، پھر اس کا مال لوٹ لیا جائے، سواری ہلاک کردی جائے، اور وہ خود جامِ شہادت نوش کر لے، اس سے بہتر کوئی جہا نہیں۔
الحكم: إسناده صحيح على شرط مسلم
← پچھلی حدیث (2428) باب پر واپس اگلی حدیث (2430) →