بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2369 — نذر پوری کرنے کا بیان
کتب سنن دارمی نذر اور قسم کے مسائل نذر پوری کرنے کا بیان حدیث 2369
حدیث نمبر: 2369 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ، فَجَاءَ أَخُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "فَاقْضُوا اللَّهَ، فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ وہ حج کرے گی لیکن اس کا انتقال ہو گیا، تو ان کا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور اس بارے میں دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں ضرور ادا کرتا، فرمایا: اس نذر کو پورا کرو، یہ نذر وفا کی زیادہ مستحق ہے۔ [سنن دارمي/من النذور و الايمان/حدیث: 2369]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2377] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6699] ، [مسلم 1655]
وضاحت
(تشریح حدیث 2368)
بخاری شریف اور سنن دارمی کے مخطوط میں ہے: «فَاقْضِ اللّٰهَ فَاللّٰهُ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ، أَوْ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ.» یعنی پھر الله کا بھی حق ادا کرو کیونکہ وہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کا حق پورا ادا کیا جائے۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (2368) باب پر واپس اگلی حدیث (2370) →