هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ،"أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ خَمْرًا فَضَرَبَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ"، ثُمَّ فَعَلَ أَبُو بَكْرٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ: اسْتَشَارَ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: أَخَفُّ الْحُدُودِ: ثَمَانِينَ، قَالَ: فَفَعَلَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے شراب پی لی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو دو چھڑیوں سے مارا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو صحابہ سے انہوں نے شرابی کی سزا کے بارے میں مشورہ کیا تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: سب سے کم حد (سزا) اسّی کوڑے کی ہے (تہمت میں)، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کو نافذ کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2348]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2357] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6773] ، [مسلم 1706] ، [أبوداؤد 4479] ، [ابن ماجه 2570] ، [أبويعلی 2894] ، [ابن حبان 4448]
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه