بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2312 — مطلقہ ثلاثہ کے لئے سکن اور خرچہ ہے یا نہیں؟
کتب سنن دارمی طلاق کے مسائل مطلقہ ثلاثہ کے لئے سکن اور خرچہ ہے یا نہیں؟ حدیث 2312
حدیث نمبر: 2312 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْلَى ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٍ ، فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ:"أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ عِنْدَ ابْنِ عَمِّهَا ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ ان کے شوہر نے ان کو تیسری طلاق دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے چچا زاد بھائی (عبداللہ) بن ام مکتوم کے گھر میں عدت گذاریں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطلاق/حدیث: 2312]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو طرف للحديث السابق، [مكتبه الشامله نمبر: 2321] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور مذکورہ بالا حدیث کا یہ ایک ٹکڑا ہے۔ نیز حدیث نمبر (2214) میں اسکی تفصیل گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح وهو طرف للحديث السابق
← پچھلی حدیث (2311) باب پر واپس اگلی حدیث (2313) →