عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، وَاصِلٍ ، عَائِذَةُ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا عَائِذَةُ، قَالَتْ: رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُوصِي الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ، وَيَقُولُ: "مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ مِنْ امْرَأَةٍ، أَوْ رَجُلٍ، فَالسَّمْتَ الْأَوَّلَ، فَإِنَّكُمْ عَلَى الْفِطْرَةِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: السَّمْتُ الطَّرِيقُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
واصل نے ایک عورت سے روایت کیا جس کا نام عائذہ تھا اس نے کہا: میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ عورتوں اور مردوں کو وصیت کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: تم میں سے جو کوئی بھی مرد یا عورت وہ زمانہ پائے تو اسلاف کا طریقہ لازم پکڑے، انہیں کے طریق پر رہے تو تم فطرت پر رہو گے۔ عبداللہ نے کہا: «السمت» سے مراد طریقہ ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 219]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 219] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور اسے ابن ابی شیبہ نے [مصنف 17856] میں، ابن سعد نے [طبقات 358/8] میں ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے اثر نمبر (174)
الحكم: إسناده صحيح