مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: "اشْرَبُوا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا، فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ کیا تو فرمایا: ”کچھ بھی پیو بس نشہ آور نہ پیو کیونکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2135]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2143] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4343] ، [مسلم 1733] ، [أبوداؤد 4356] ، [نسائي 6511] ، [ابن ماجه 3391] ، [أبويعلی 7339] ، [ابن حبان 5373] ، [منحة المعبود 1724]
وضاحت
(تشریح حدیث 2134)
نسائی کی روایت (5602) میں ہے: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ ہمیں ایسی سرزمین پر بھیج رہے ہیں جہاں لوگ کثرت سے شراب پیتے ہیں، تو ہم کیا پئیں؟ تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ بھی پینا لیکن جو نشہ لائے وہ نہ پینا۔
“ اس کا مطلب ہے نبیذ انگور اور کھجور کا شربت وغیرہ جب تک کہ وہ نشہ آور نہ ہو پی سکتے ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح