بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 21 — اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو درخت اور چوپائے نیز جنوں کے ان پر ایمان لانے سے جو عزت بخشی اس کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو درخت اور چوپائے نیز جنوں کے ان پر ایمان لانے سے جو عزت بخشی اس کا بیان حدیث 21
فَرْوَةُ ، الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، إِسْمَاعِيل السُّدِّيِّ ، عَبَّادٍ أَبِي يَزِيدَ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل السُّدِّيِّ، عَنْ عَبَّادٍ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: "كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا، فَمَرَرْنَا بَيْنَ الْجِبَالِ وَالشَّجَرِ، فَلَمْ نَمُرَّ بِشَجَرَةٍ وَلَا جَبَلٍ إِلَّا قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بعض نواحی مکہ میں نکلے تو جو پہاڑ اور درخت بھی سامنے آیا اس نے کہا: اے اللہ کے رسول آپ پر سلامتی ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 21]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده فيه علتان: ضعف الوليد بن أبي ثور وجهالة عباد أبي يزيد وهو عباد بن أبي يزيد، [مكتبه الشامله نمبر: 21] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 3630] ، [دلائل النبوة 153/2] لیکن اس کا شاہد [المعجم الاوسط 5428] میں ہے جو حسن ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 16 سے 21)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ عظمت وتوقیر ہے کہ پتھر بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کرتے ہیں، یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معجزہ ہے، الله تعالیٰ جمادات کو بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے قوت گویائی عطا فرماتا ہے، نیز یہ کہ نبوت کے ملنے سے پہلے بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معزز و مکرم تھے۔
الحكم: إسناده فيه علتان: ضعف الوليد بن أبي ثور وجهالة عباد أبي يزيد وهو عباد بن أبي يزيد
← پچھلی حدیث (20) باب پر واپس اگلی حدیث (22) →