سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَقَالَ: "أُمَّةٌ مُسِخَتْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک سانڈا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک امت (تھی)، مسخ کر دی گئی، الله زیادہ جانتا ہے (وہ کون ہے)۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصيد/حدیث: 2055]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2059] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3795] ، [نسائي 4347] ، [ابن ماجه 3238] ، [أحمد 220/4] ، [معجم الصحابة، ترجمة 131] ، [ابن ابي شيبه 4415]
وضاحت
(تشریح حدیث 2054)
ابوداؤد اور نسائی میں ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کر کے جانور بنا دیا گیا، میں نہیں جانتا وہ کونسا جانور ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ کھایا اور نہ اس کے کھانے سے منع کیا۔
علامہ وحیدالزماں نے کہا: تو نہ کھایا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بطریقِ احتیاط وتورع کے، نہ بوجہ حرمت کے۔
دوسری حدیث سے معلوم ہوا کہ جو گروہ مسخ ہوا تھا وہ سب تین دن میں مر گئے (تھے)، پھر یہ شبہ جاتا رہا۔
[أبوداؤد حاشيه ف حديث 3795] ۔
الحكم: إسناده صحيح