بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2024 — مرے ہوئے جانور کی کھال کے استعمال کا بیان
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں مرے ہوئے جانور کی کھال کے استعمال کا بیان حدیث 2024
حدیث نمبر: 2024 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الْأَسْقِيَةِ، فَقَالَ: مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن وعلۃ نے کہا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چمڑے کی مشک (جس میں پانی بھرا جاتا ہے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ تمہیں کیا جواب دوں سوائے اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو بھی کھال دباغت دی جائے وہ پاک ہو گئی۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2024]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2028] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 366] ، [أبوداؤد 4123] ، [ترمذي 1727] ، [نسائي 4252] ، [ابن ماجه 3609]
وضاحت
(تشریح حدیث 2023)
ماکول اللحم جانور کی کھال نمک، درخت کے پتوں وغیرہ سے صاف کی جائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے اور اس سے انتفاع جائز ہے خواہ وہ جانور مردہ ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ آگے حدیث میں آ رہا ہے۔
اس حدیث میں «أَيُّمَا إِهَابٍ» عام ہے، یعنی جو چمڑا بھی دباغت دیا جائے وہ پاک ہو جاتا ہے، اس عموم سے علماء نے استدلال کیا کہ کسی بھی جانور کا چمڑا ہو۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے سور اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کتے اور سور کے چمڑے کے بارے میں کہا: وہ کسی صورت میں جائز و پاک نہیں ہوگا۔
اسی طرح آدمی کا چمڑا بھی دباغت سے پاک اور قابلِ استعمال نہ ہوگا۔
سور اور کتا ناپاک و نجس ہونے کے سبب اور آدمی کی کھال آدمی کے معظم و مکرم ہونے کے سبب قابلِ انتفاع نہیں۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2023) باب پر واپس اگلی حدیث (2025) →