أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ الْحَسَنِ أَنَّهُ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ سورة الأعراف آية 12 قَالَ: "قَاسَ إِبْلِيسُ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ قَاسَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مطر (الوراق) سے مروی ہے کہ حسن رحمہ اللہ نے یہ آیت شریفہ تلاوت فرمائی: « ﴿خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ﴾ » [الأعراف: 12/7] اور کہا ابلیس نے قیاس کیا اور وہ پہلا ہے جس نے قیاس کیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 196]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل محمد بن كثير ومطر، [مكتبه الشامله نمبر: 196] »
اس روایت کی سند میں دو راوی محمد بن کثیر اور مطر الوراق ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [تفسير الطبري 131/8] ، [الفقيه 506] ، [الإحكام 1381/8]
وضاحت
(تشریح حدیث 195)
ابلیس نے آیتِ شریفہ کے مطابق قیاس یہ کیا کہ: اے رب! مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور ان کو (آدم علیہ السلام کو) مٹی سے پیدا فرمایا ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف من أجل محمد بن كثير ومطر