بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1876 — حجر اسود کے چھونے یا بوسہ دینے کا بیان
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں حجر اسود کے چھونے یا بوسہ دینے کا بیان حدیث 1876
حدیث نمبر: 1876 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا". قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ؟ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي لِيَكُونَ أَيْسَرَ لِاسْتِلَامِهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان دونوں رکن (حجر اسود اور رکن یمانی) کو بوسہ دیتے اور چھوتے دیکھا ہے، شدت و نرمی کے حالات میں کبھی نہیں چھوڑا، عبید اللہ نے کہا: میں نے نافع سے پوچھا: کیا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں رکنوں کے درمیان چلتے تھے؟ نافع نے کہا: وہ چلتے تھے تاکہ اس کے استلام میں سہولت ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1876]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1880] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1606] ، [مسلم 1268] ، [نسائي 2952] ، [أبويعلی 5473] ، [ابن حبان 3827] ، [الحميدي 666]
وضاحت
(تشریح حدیث 1875)
طواف میں حجرِ اسود کا بوسہ لینا یا چھونا سنّت ہے اور رکنِ یمانی کا صرف چھونا سنّت ہے بوسہ دینا نہیں، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اتنے شیدائی تھے کہ سنّت سے سرمو انحراف نہ کرتے تھے، جیسا کہ حدیث میں مذکورہ ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1875) باب پر واپس اگلی حدیث (1877) →