بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1863 — احرام کی حالت میں شادی کرنے کا بیان
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں احرام کی حالت میں شادی کرنے کا بیان حدیث 1863
حدیث نمبر: 1863 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي رَافِعٍ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: "تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا، وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے (جب) نکاح کیا تو وہ بے احرام کے تھے اور (جب) صحبت کی تب بھی بے احرام کے تھے، اور میں ان دونوں کے بیچ میں پیغام رسانی کرنے والا تھا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1863]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1866] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 4130] ، [المعرفة للبيهقي 9749]
وضاحت
(تشریح حدیث 1862)
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے بارے میں اختلاف ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کہاں اور کس حالت میں نکاح کیا، تو صحیح یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے مکہ کے راستے میں نکاح کیا تو بعض صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے احرام باندھنے سے قبل نکاح کیا لیکن یہ نکاح احرام باندھنے کے بعد مشہور ہوا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام کھول چکے تب ان سے صحبت کی تھی مقامِ سرف میں جو مکہ سے دس میل کے فاصلے پر ہے (اتفاق ہے) سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے وہیں مقامِ سرف میں وفات پائی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے صحبت کی تھی اور وہ وہیں دفن بھی کی گئیں۔
ان تمام احادیث سے ثابت ہوا کہ محرم حالتِ احرام میں نہ اپنا نکاح کر سکتا ہے نا کسی اور کا نکاح کرا سکتا ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (1862) باب پر واپس اگلی حدیث (1864) →