بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1802 — عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان حدیث 1802
حدیث نمبر: 1802 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ ، أَبِيهِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَوْمُ عَرَفَةَ، وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یوم عرفہ اور ایام التشریق ہماری اہل اسلام کی عید کے دن ہیں اور یہ کھانے پینے کے ایام ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1802]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1805] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2419] ، [ترمذي 773] ، [نسائي 3004] ، [ابن حبان 3603]
وضاحت
(تشریح حدیث 1801)
عرفہ کا دن نو ذوالحجہ اور ایام التشريق 10 ذی الحجہ سے 13 ذی الحجہ تک ہیں، ان دنوں میں حاجی کے لئے روزہ رکھنا درست نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے حاجی کے لئے مشقت ناقابلِ برداشت ہو جائے تو وہ کما حقہ دعا و اذکار نہ کر سکے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1801) باب پر واپس اگلی حدیث (1803) →