بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1801 — عاشوراء کے روزے کا بیان
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل عاشوراء کے روزے کا بیان حدیث 1801
حدیث نمبر: 1801 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ ، شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، حَتَّى إِذَا فُرِضَ رَمَضَانُ، كَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةُ، وَتُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں قریش عاشوراء کے دن روزہ رکھا کرتے تھے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا یہاں تک کہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو یہ فریضہ ہو گئے اور عاشورا کو ترک کر دیا، جس نے چاہا روزہ رکھا اور جس نے چاہا چھوڑ دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1804] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1893، 2001، 2002] ، [مسلم 1125] ، [أبوداؤد 2442] ، [ترمذي 753] ، [أبويعلی 4638] ، [ابن حبان 3621] ، [الحميدي 202، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 1800)
ان تمام احادیث سے عاشورا کے روزے کی فضیلت و اہمیت معلوم ہوئی اس لئے محرم کی دس تاریخ کا روزہ رکھنا مستحب ہے نیز ایک دن قبل یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھنا چاہیے۔
علمائے کرام نے اس کی تین صورتیں ذکر کی ہیں: نو دس گیارہ تین دن تک کا روزہ رکھے یا نو اور دس دو دن کا روزہ رکھے یا دس اور گیارہ کا روزہ رکھے۔
پہلی صورت سب سے افضل ہے، اور صرف دس محرم کا روزہ رکھنے کو علمائے کرام نے مکروہ کہا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں آئندہ سال بقیدِ حیات رہا تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا۔
ایک اور حدیث ہے کہ یہودی دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں، تم ان کی مخالفت کرو اور نو اور دس کا روزہ رکھو، اس روزے کی فضیلت کے بارے میں فرمایا کہ اس سے پچھلے ایک سال کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، الله تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عنایت فرمائے۔
آمین۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1800) باب پر واپس اگلی حدیث (1802) →