بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1741 — روزے میں وصال کی ممانعت کا بیان
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل روزے میں وصال کی ممانعت کا بیان حدیث 1741
حدیث نمبر: 1741 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ"مَرَّتَيْنِ. قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ:"إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ وصال سے بچو، لوگوں نے عرض کیا: آپ تو وصال کرتے ہیں؟ فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، رات میں مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1741]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 1745] »
اس روایت کی سند قوی اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1965] ، [مسلم 1103] ، [ترمذي 778] ، [أبويعلی 6088] ، [ابن حبان 3575] ، [مسند الحميدي 1039]
وضاحت
(تشریح حدیث 1740)
وصال کے معنی ملانے یا جوڑنے کے ہیں اور روزے کا وصال یہ ہے کہ دو دن یا چند ایام مسلسل روزے سے رہے اور رات دن میں کبھی افطار نہ کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کی ممانعت میں بہت سی احادیث آئی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صراحۃً روزے میں وصال سے منع فرمایا ہے، نہیٰ کی ان احادیث کو بعض علماء نے نہیٰ تحریمی پر اور بعض نے نہیٰ تنزیہی پر محمول کیا ہے، مذکور بالا حدیث میں بھی وصال سے بچنے کا حکم ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وصال کرتے تھے جو صرف آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خاص تھا جیسا کہ حدیث میں واضح طور پر ہے کہ میں تمہاری طرح سے نہیں ہوں۔
الحكم: إسناده قوي
← پچھلی حدیث (1740) باب پر واپس اگلی حدیث (1742) →