بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 168 — فتویٰ کے خطرناک ہونے کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ فتویٰ کے خطرناک ہونے کا بیان حدیث 168
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ "إِذَا سُئِلَ عَنْ الْأَمْرِ فَكَانَ فِي الْقُرْآنِ، أَخْبَرَ بِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي الْقُرْآنِ وَكَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَ بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ، فَعَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ، قَالَ فِيهِ بِرَأْيِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبیداللہ بن ابی یزید سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے جب کسی معاملے میں مسئلہ دریافت کیا جاتا تو اگر وہ قرآن پاک میں مذکور ہوتا تو بتا دیتے، اگر قرآن کریم میں نہ ہوتا، اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں مل جاتا تو بتا دیتے، اور اگر حدیث میں بھی نہ ہوتا تو سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فتاوے پر نظر ڈالتے، اگر ان کے یہاں بھی وہ مسئلہ نہ ملتا تو پھر اس بارے میں اپنی رائے ظاہر فرماتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 168]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 168] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المستدرك 127/1] ، [الفقيه 203/1] ، [آداب القاضي 115/10]
وضاحت
(تشریح حدیث 167)
«عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ» کی کتنی بہترین یہ اتباع، تفسیر و عمل اور مثال ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (167) باب پر واپس اگلی حدیث (169) →