بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1669 — لوگوں کے بہت نفیس مال سے زکاۃ لینے کی ممانعت کا بیان
کتب سنن دارمی زکوٰۃ کے مسائل لوگوں کے بہت نفیس مال سے زکاۃ لینے کی ممانعت کا بیان حدیث 1669
حدیث نمبر: 1669 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو عَاصِمٍ ، زَكَرِيَّا ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: "إِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: ان کے نفیس مال کو (زکاة میں) لینے سے بچنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1669]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1671] »
اس حدیث کا حوالہ حدیث (1653) پر گذر چکا ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 1668)
اس حدیث میں زکاة میں اچھا اچھا مال چھانٹ کر لینے کی ممانعت معلوم ہوتی ہے، یعنی زکاة میں جو مال لیا جائے وہ نہ تو بہت زیادہ اچھا ہو اور نہ خراب ہو، بلکہ دونوں کے بیچ کا متوسط مال ہونا چاہیے۔
← پچھلی حدیث (1668) باب پر واپس اگلی حدیث (1670) →