بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 162 — فتویٰ کے خطرناک ہونے کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ فتویٰ کے خطرناک ہونے کا بیان حدیث 162
مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي سِنَانٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "مَنْ أَفْتَى بِفُتْيَا يُعَمَّى عَلَيْهَا، فَإِثْمُهَا عَلَيْه".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جو شخص بنا جانے بوجھے کوئی فتویٰ دیدے تو اس کا گناہ اسی (فتویٰ دینے والے) پر ہو گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 162]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 162] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 1626] ، [الفقيه والمتفقه 155/2] ۔ ابوسنان کا نام ضرار بن مرة ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 160 سے 162)
ان دونوں روایات میں بلا سوچے سمجھے اور بنا جانے بوجھے فتویٰ دینے اور بغیر دلیل و برہان کے مسائل بتانے سے احتیاط اور پرہیز کی ترغیب و ترہیب ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (161) باب پر واپس اگلی حدیث (163) →