بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 160 — فتویٰ کے خطرناک ہونے کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ فتویٰ کے خطرناک ہونے کا بیان حدیث 160
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "مَنْ أَحْدَثَ رَأْيًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلَمْ تَمْضِ بِهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَدْرِ عَلَى مَا هُوَ مِنْهُ إِذَا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جو بات کتاب اللہ میں نہیں اور کسی نے اپنی رائے سے کہی، اور وہ احادیث رسول میں سے بھی نہیں، تو اسے معلوم نہیں کہ جب وہ اللہ عزوجل سے ملاقات کرے گا تو اسے اس کا کتنا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 160]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إذا كان عبدة سمعه من ابن عباس، [مكتبه الشامله نمبر: 160] »
یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے جس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [البدع 94] ، [الأحكام 782/6] ، [المدخل 190] ، [الفقيه 183/1]
وضاحت
(تشریح احادیث 158 سے 160)
قرآن و حدیث کو دیکھے بغیر بلا دلیل کے فتویٰ دینا حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دینے کے مترادف ہے۔
الحكم: إسناده صحيح إذا كان عبدة سمعه من ابن عباس
← پچھلی حدیث (159) باب پر واپس اگلی حدیث (161) →